Subha Taiba Mein Hui Batta hai bara Noor ka lyrics in URDU | Qaseeda-e-Noor Lyrics | kalaam e Aala Hazrat - www.Darseislam.com

 کلامِ اعلیٰ حضرت


Recited By:- Andaleeb e Raza MUHAMMAD RAFIQUE RAZA QADRI
Submit By: Muhammad Junaid Raza


صبح طیبہ میں ہوئی بٹتا ہے باڑا نور کا

صدقہ لینے نور کا آیا ہے تارا نور کا


صبح طیبہ میں ہوئی

 بٹتا ہے باڑا نور کا


باغِ طیبہ میں سہانا پھول پھولا نور کا

مستِ بو ہیں بلبلیں پڑھتی ہیں کلمہ نور کا




صبح طیبہ میں ہوئی

 بٹتا ہے باڑا نور کا





بارہویں کے چاند کا مُجرا ہے سجدہ نور کا

بارہ بُرجوں سے جھکا ایک اِک سِتارہ نور کا




صبح طیبہ میں ہوئی

 بٹتا ہے باڑا نور کا




ان کے قَصْرِ قَدْر سے خُلْد ایک کمرہ نور کا

سِدْرَہ پائیں باغ میں ننھا سا پودا نور کا




صبح طیبہ میں ہوئی

 بٹتا ہے باڑا نور کا




عرش بھی فِردوس بھی اس شاہِ والا نور کا

یہ مُثَمَّن بُرج وہ مُشکُوئے اَعلیٰ نور کا




صبح طیبہ میں ہوئی

 بٹتا ہے باڑا نور کا





آئی بدعت چھائی ظلمت رنگ بدلا نور کا

ماہِ سُنّت مِہْرِ طَلْعت لے لے بدلا نور کا



صبح طیبہ میں ہوئی

 بٹتا ہے باڑا نور کا




تیرے ہی ماتھے رہا اے جان سہرا نور کا

بخت جاگا نور کا چمکا ستارا نور کا




صبح طیبہ میں ہوئی

 بٹتا ہے باڑا نور کا




میں گدا تو بادشاہ بھر دے پیالہ نور کا

نور دن دُونا تِرا دے ڈال صدقہ نور کا




صبح طیبہ میں ہوئی

 بٹتا ہے باڑا نور کا




تیری ہی جانب ہے پانچوں وقت سجدہ نور کا

رُخ ہے قبلہ نور کا اَبرو ہے کعبہ نور کا




صبح طیبہ میں ہوئی

 بٹتا ہے باڑا نور کا





پُشت پر ڈَھلکا سرِ انور سے شَمْلَہ نور کا

دیکھیں موسیٰ طُور سے اُترا صَحِیفہ نور کا



صبح طیبہ میں ہوئی

 بٹتا ہے باڑا نور کا





تاج والے دیکھ کر تیرا عِمامہ نور کا

سر جھکاتے ہیں الٰہی بول بالا نور کا




صبح طیبہ میں ہوئی

 بٹتا ہے باڑا نور کا





بِینیِ پُرنور پر رَخشاں ہے بُکّہ نور کا

ہے لِوَاءُ الْحَمْد پر اُڑتا پھَریرا نور کا




صبح طیبہ میں ہوئی

 بٹتا ہے باڑا نور کا





مُصْحَفِ عارِض پہ ہے خطِ شَفِیْعَہ نور کا

لو سِیَہ کارو مبارک ہو قَبَالَہ نور کا




صبح طیبہ میں ہوئی

 بٹتا ہے باڑا نور کا




آبِ زر بنتا ہے عارِض پر پسینہ نور کا

مُصْحَفِ اِعجاز پر چڑھتا ہے سونا نور کا




صبح طیبہ میں ہوئی

 بٹتا ہے باڑا نور کا





پیچ کرتا ہے فدا ہونے کو لَمْعَہ نور کا

گردِ سر پھرنے کو بنتا ہے عِمامَہ نور کا




صبح طیبہ میں ہوئی

 بٹتا ہے باڑا نور کا




ہیبت عارض سے تھراتا ہے شعلہ نور کا

کَفشِ پا پر گر کے بن جاتا ہے گُپّھا نور کا




صبح طیبہ میں ہوئی

 بٹتا ہے باڑا نور کا




شمع دل مِشکوٰۃ تن سینہ زُجا جَہ نور کا

تیری صورت کے لئے آیا ہے سُورہ نور کا




صبح طیبہ میں ہوئی

 بٹتا ہے باڑا نور کا





مَیل سے کس درجہ ستھرا ہے وہ پُتلا نور کا

ہے گلے میں آج تک کورا ہی کُرتا نور کا




صبح طیبہ میں ہوئی

 بٹتا ہے باڑا نور کا





تیرے آگے خاک پر جھکتا ہے ماتھا نور کا

نور نے پایا تِرے سجدے سے سِیْما نور کا




صبح طیبہ میں ہوئی

 بٹتا ہے باڑا نور کا





تو ہے سایہ نور کا ہر عُضْو ٹکڑا نور کا

سایہ کا سایہ نہ ہوتا ہے نہ سایہ نور کا




صبح طیبہ میں ہوئی

 بٹتا ہے باڑا نور کا





کیا بَنا نامِ خدا اَسرا کا دولہا نور کا

سر پہ سہرا نور کا بَر میں شَہانہ نور کا




صبح طیبہ میں ہوئی

 بٹتا ہے باڑا نور کا




بزمِ وَحْدَت میں مزا ہو گا دوبالا نور کا

ملنے شمعِ طور سے جاتا ہے اِکّا نور کا




صبح طیبہ میں ہوئی

 بٹتا ہے باڑا نور کا




وصفِ رخ میں گاتی ہیں حوریں ترانہ نور کا

قدرتی بِینوں میں کیا بجتا ہے لَہْرا نور کا




صبح طیبہ میں ہوئی

 بٹتا ہے باڑا نور کا




یہ کتابِ کُن میں آیا طُرفہ آیَہ نور کا

غیرِ قائل کچھ نہ سمجھا کوئی معنیٰ نور کا




صبح طیبہ میں ہوئی

 بٹتا ہے باڑا نور کا




دیکھنے والوں نے کچھ دیکھا نہ بھالا نور کا

مَنْ رَاٰی کیسا یہ آئینہ دکھایا نور کا




صبح طیبہ میں ہوئی

 بٹتا ہے باڑا نور کا






صبح کر دی کفر کی سچا تھا مُژدہ نور کا

شام ہی سے تھا شبِ تِیرہ کو دھڑکا نور کا




صبح طیبہ میں ہوئی

 بٹتا ہے باڑا نور کا




پڑتی ہے نوری بھرن امڈا ہے دریا نور کا

سر جھکا اے کِشْتِ کفر آتا ہے اَہلا نور کا




صبح طیبہ میں ہوئی

 بٹتا ہے باڑا نور کا




ناریوں کا دور تھا دل جل رہا تھا نور کا

تم کو دیکھا ہو گیا ٹھنڈا کلیجا نور کا




صبح طیبہ میں ہوئی

 بٹتا ہے باڑا نور کا





نَسْخ اَدیاں کر کے خود قبضہ بٹھایا نور کا

تاجْور نے کر لیا کچا علاقہ نور کا




صبح طیبہ میں ہوئی

 بٹتا ہے باڑا نور کا



جو گدا دیکھو لیے جاتا ہے توڑا نور کا

نور کی سرکار ہے کیا اس میں توڑا نور کا




صبح طیبہ میں ہوئی

 بٹتا ہے باڑا نور کا




بھیک لے سرکار سے لا جلد کاسہ نور کا

ماہِ نو طیبہ میں بٹتا ہے مہینہ نور کا




صبح طیبہ میں ہوئی

 بٹتا ہے باڑا نور کا





دیکھ ان کے ہوتے نازیبا ہے دعویٰ نور کا

مِہْر لکھ دے یاں کے ذرّوں کو مُچَلْکا نور کا



صبح طیبہ میں ہوئی

 بٹتا ہے باڑا نور کا



یاں بھی داغِ سجدۂ طَیبہ ہے تَمغا نور کا

اے قمر کیا تیرے ہی ماتھے ہے ٹِیکا نور کا



صبح طیبہ میں ہوئی

 بٹتا ہے باڑا نور کا



شمع ساں ایک ایک پروانہ ہے اس با نور کا

نورِ حق سے لو لگائے دل میں رشتہ نور کا



صبح طیبہ میں ہوئی

 بٹتا ہے باڑا نور کا



اَنجمن والے ہیں اَنجم بَزم حلقہ نور کا

چاند پر تاروں کے جھرمَٹ سے ہے ہالہ نور کا



صبح طیبہ میں ہوئی

 بٹتا ہے باڑا نور کا



تیری نسلِ پاک میں ہے بچہ بچہ نور کا

تو ہے عینِ نور تیرا سب گھرانا نور کا




صبح طیبہ میں ہوئی

 بٹتا ہے باڑا نور کا



نور کی سرکار سے پایا دوشالہ نور کا

ہو مبارک تم کو ذُو النُّوْرَیْن جوڑا نور کا




صبح طیبہ میں ہوئی

 بٹتا ہے باڑا نور کا



کس کے پردے نے کیا آئینہ اندھا نور کا

مانگتا پھرتا ہے آنکھیں ہر نگینہ نور کا




صبح طیبہ میں ہوئی

 بٹتا ہے باڑا نور کا



اب کہاں وہ تابِشیں کیسا وہ تڑکا نور کا

مِہْر نے چھپ کر کیا خاصا دُھنْدَلْکا نور کا




صبح طیبہ میں ہوئی

 بٹتا ہے باڑا نور کا



تم مُقابِل تھے تو پہروں چاند بڑھتا نور کا

تم سے چھٹ کر منھ نکل آیا ذرا سا نور کا




صبح طیبہ میں ہوئی

 بٹتا ہے باڑا نور کا



قبرِ انور کہیے یا قصرِ مُعلّٰے نور کا

چَرخِ اَطلَس یا کوئی سادہ سا قُبّہ نور کا




صبح طیبہ میں ہوئی

 بٹتا ہے باڑا نور کا



آنکھ مِل سکتی نہیں در پر ہے پہرا نور کا

تاب ہے بے حکم پَر مارے پرندہ نور کا



صبح طیبہ میں ہوئی

 بٹتا ہے باڑا نور کا



نَزع میں لوٹے گا خاکِ در پہ شیدا نور کا

مَر کے اوڑھے گی عَروسِ جاں دوپٹا نور کا




صبح طیبہ میں ہوئی

 بٹتا ہے باڑا نور کا



تابِ مِہرِ حشر سے چونکے نہ کُشْتہ نور کا

بوندیاں رحمت کی دینے آئیں چھینٹا نور کا



صبح طیبہ میں ہوئی

 بٹتا ہے باڑا نور کا




وضْعِ واضع میں تِری صورت ہے معنی نور کا

یوں مَجازاً چاہیں جس کو کہہ دیں کلمہ نور کا



صبح طیبہ میں ہوئی

 بٹتا ہے باڑا نور کا



اَنبیا اَجزا ہیں تو بالکل ہے جملہ نور کا

اس علاقے سے ہے اُن پر نام سچا نور کا



صبح طیبہ میں ہوئی

 بٹتا ہے باڑا نور کا



یہ جو مِہر و مَہ پہ ہے اِطلاق آتا نور کا

بھیک تیرے نام کی ہے اِستِعارَہ نور کا



صبح طیبہ میں ہوئی

 بٹتا ہے باڑا نور کا



سُرمَگیں آنکھیں حَریمِ حق کے وہ مُشکِیں غَزال

ہے فضائے لامکاں تک جن کا رَمنا نور کا



صبح طیبہ میں ہوئی

 بٹتا ہے باڑا نور کا



تابِ حُسنِ گرم سے کھل جائیں گے دل کے کَنول

نو بہاریں لائے گا گرمی کا جھلکا نور کا



صبح طیبہ میں ہوئی

 بٹتا ہے باڑا نور کا



ذرّے مِہرِ قُدس تک تیرے تَوَسُّط سے گیے

حدِّ اَوسَط نے کیا صُغریٰ کو کُبریٰ نور کا



صبح طیبہ میں ہوئی

 بٹتا ہے باڑا نور کا



سبزۂ گَردوں جھکا تھا بہرِ پا بوسِ بُراق

پھر نہ سیدھا ہو سکا کھایا وہ کوڑا نور کا



صبح طیبہ میں ہوئی

 بٹتا ہے باڑا نور کا



تابِ سم سے چوندھیا کر چاند اُنھیں قدموں پھرا

ہنس کے بجلی نے کہا دیکھا چھلاوا نور کا




صبح طیبہ میں ہوئی

 بٹتا ہے باڑا نور کا



دیدِ نقشِ سُم کو نکلی سات پَردوں سے نگاہ

پُتلیاں بولیں چلو آیا تماشا نور کا



صبح طیبہ میں ہوئی

 بٹتا ہے باڑا نور کا



عکسِ سم نے چاند سُورج کو لگائے چار چاند

پڑگیا سِیم و زرِ گَردوں پہ سکہ نور کا



صبح طیبہ میں ہوئی

 بٹتا ہے باڑا نور کا



چاند جھک جاتا جِدھر اُنگلی اٹھاتے مَہد میں

کیا ہی چلتا تھا اشاروں پر کھلونا نور کا



صبح طیبہ میں ہوئی

 بٹتا ہے باڑا نور کا



ایک سینہ تک مُشابہ اک وہاں سے پاؤں تک

حُسنِ سِبطَین ان کے جاموں میں ہے نِیْما نور کا



صبح طیبہ میں ہوئی

 بٹتا ہے باڑا نور کا



صاف شکلِ پاک ہے دونوں کے ملنے سے عِیاں

خط تَواَم میں لکھا ہے یہ دو۲ وَرقہ نور کا



صبح طیبہ میں ہوئی

 بٹتا ہے باڑا نور کا



کٓ گیسو ٰ ہ دَہن یٰ ابرو آنکھیں عٓ صٓ

کٓھٰیٰعٓصٓ اُن کا ہے چہرہ نور کا



صبح طیبہ میں ہوئی

 بٹتا ہے باڑا نور کا



اے رضاؔ یہ احمدِ نوری کا فیضِ نور ہے

ہوگئی میری غَزل بڑھ کر قصیدہ نور کا



صبح طیبہ میں ہوئی

 بٹتا ہے باڑا نور کا


COMPLETED BY: WWW.DARSEISLAM.COM


Post a Comment

0 Comments